سری نگر /نئی دہلی، 11جولائی (یو ا ین آئی/پی ٹی آئی) جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جنگجویانہ حملے میں امرناتھ یاتریوں کی ہلاکت کے باوجود وادی کشمیر میں امرناتھ یاترا جاری رکھی گئی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سخت ترین حفاظتی انتظامات کے بیچ یاتریوں کا تازہ قافلہ منگل کی علی الصبح یاتری نواسن بیس کیمپ جموں سے جنوبی کشمیر میں واقع امرناتھ گپھاکی طرف روانہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ امرناتھ یاترا کے راستوں بالخصوص سری نگر جموں قومی شاہراہ پرسکیورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورس اہلکاروں کو شاہراہ پر مشتبہ گاڑیوں اور افراد کی نقل وحرکت پر کڑی نگاہ رکھنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آپریشنل) ذوالفقار حسن نے منگل کی صبح حملے کے مقام کا دورہ کرکے شاہراہ پرسکیورٹی کی صورتحال کا آن اسپاٹ جائزہ لیا۔ انہوں نے وہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملے کی تحقیقات جموں وکشمیر پولیس کررہی ہے ۔ عنقریب یہ معلوم ہوگا کہ یہ حملے کیسے اور کس طرح کیا گیا۔ یاترا جاری ہے۔ ہم نے یاترا کو نہیں روکا ہے ۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ یاترا جاری رہے '۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جموں بیس کیمپ کے علاوہ وادی میں بال تل اور ننون پہل گام بیس کیمپوں سے بھی یاتریوں کے تازہ قافلے پوتر گھپا کی طرف روانہ ہوئے ۔انہوں نے بتایا کہ پوتر گپھامیں درشن دینے والے یاتری بھی جموں کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ تاحال ڈیڑھ لاکھ یاتریوں نے پوتر گپھامیں شیولنگم کے درشن کئے ہیں۔ خیال رہے کہ ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں گذشتہ رات جنگجوؤں اورسکیورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک یاتری بس کے کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے 7 امرناتھ یاتری ہلاک جبکہ کم از کم ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے۔ کراس فائرنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے سبھی یاتریوں کا تعلق گجرات سے ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے سبھی سات یاتریوں کو ائرلفٹ کرکے گجرات منتقل کردیا گیا ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں سالانہ امرناتھ یاترا 29 جون کو روایتی پہل گام اور مختصر بال تل راستوں سے بہ یک وقت شروع ہوئی۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے امسال یاتریوں کو تحفظ اور سلامتی کا احساس دلانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا ہے اور کشمیر شاہراہ پر یاتریوں کے قافلوں کی مصنوعی سیاروں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جارہی ہے ۔ مبینہ خطرے کے پیش نظر تمام رجسٹرڈ یاتریوں کا انشورنس کور پہلے ہی ایک لاکھ روپے سے بڑھاکر 3لاکھ روپے کردیا گیا تھا۔امرناتھ یاترا کے پرامن اور خوشگوار ماحول میں انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے یاترا روٹوں اور شاہراہ پر 29 جون سے قبل ہی 30 ہزار فوجیوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مشکوک نقل وحرکت پر نگاہ رکھنے کے لئے شاہراہ کے کچھ مشہور اور مخصوص مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے تھے ۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یاتریوں کو جموں وکشمیر کے داخلی پوائنٹ لکھن پور سے لیکر امرناتھ گھپا اور واپسی پر اسی طرح لکھن پور تک معقول سکیورٹی کور فراہم کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں سکیورٹی فورس اہلکاروں کی تعیناتی میں اب کی بار تین گنا اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بیس کیمپ جموں سے لیکر امرناتھ گھپا تک پیرا ملٹری فورسز بشمول سی آر پی ایف اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کی 200 اضافی کمپنیاں تعینات ہیں۔ سی آر پی ایف اور ایس ایس بی کی نئی کمپنیوں کی تعیناتی وادی میں پہلے سے موجود پیرا ملٹری اور ریاستی پولیس کے اضافی ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امرناتھ گھپا کی درشن کے لئے آنے والے بیشتر یاتری بال تل اور ننون پہل گام بیس کیمپوں تک بغیر کسی سکیورٹی کے سفر کرتے ہیں۔ بیشتر یاتری امرناتھ گھپا کی درشن کرنے کے بعد وادی کشمیر میں مختلف سیاحتی مقامات خاص طور پر گلمرگ، پہل گام اور سونہ مرگ کی سیر بھی کرتے ہیں۔وادی میں گذشتہ برس بھی جنگجویانہ واقعات میں تیزی کے درمیان سالانہ امرناتھ یاترا شروع ہوئی تھی اور بعدازاں بغیر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے اپنے مقررہ وقت پر اختتام کو پہنچی تھی۔ یاترا شروع ہونے سے قبل مہلوک حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ کشمیر آنے والے امرناتھ یاتریوں کو کسی بھی صورت میں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔